27 جولائی 2014 - 10:44
80 فیصد سعودی باشندے، مزاحمت کے حامی

سعودی عرب کے 80 فیصد سے زیادہ باشندے اسرائيل کے حملوں کے مقابلے میں فلسطینی مزاحمت کی جوابی کارروائی اور راکٹ حملوں کی حمایت کرتے ہیں۔

ابنا: سعودی عرب کے ادارے رکین کی جانب سے انجام دیئے جانے والے سروے کے مطابق سعودی عرب کے 82 فیصد باشندے غزہ کی جنگ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کے جواب میں فلسطین کی مزاحمت کے راکٹ حملوں کی حمایت کرتے ہیں اور اس کو فلسطینیوں کا حق سمجھتے ہیں۔ اس سروے سے نشاندہی ہوتی ہے کہ سعودی عرب کے 49 فیصد باشندوں کا خیال ہے کہ غزہ پر حملہ کا ذمہ دار اسرائیل ہے، جبکہ یہ ایسے میں ہے کہ سعودی عرب کے 51 فیصد دیگر باشندے غزہ میں صہیونی جرائم کا ذمہ دار عرب حکمرانوں اور اداروں کو سمجھتے ہیں۔ سعودی عرب کے ایک سرگرم کارکن مجتھد نے اس سے پہلے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے صہیونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو سے وعدہ کیا تھا کہ فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے خاتمے کی صورت میں، ریاض اور ابوظبی میں صہیونی حکومت کے سفارت خانے کھول دئے جائيں گے اور جنگ کا خرچہ بھی یہ دو عرب ممالک دیں گے۔

.......

/169